پاکستان کے عوام اسلام سے محبت کرتے ہیں ۔ نوے فیصد پاکستانی ملک میں اسلامی نظام چاہتے ہیں ۔سینیٹر سراج الحق

لاہور 19جولائی 2018ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پاکستانی قوم اسلام اور اپنے پاکیزہ تہذیب و تمدن کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہے، وہ مغرب اور امریکہ کے آلہ کاروں کو اپنی گردنوں پر سوار نہیں ہونے دے گی ۔ 25 جولائی کو قوم متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو ووٹ دے کر کامیاب کریں ۔ ایم ایم اے کی کامیابی صرف پاکستان کے لیے نہیں ، پوری امت کے لیے ضروری ہے ۔ جو بھی پاکستان کے نظریے اور جغرافیہ کے تحفظ کی بات کرے گا ، وہی پاکستانی عوام کا حقیقی نمائندہ ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے دیر اور باڑا میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جلسوں سے مولانا محمد اسماعیل اور اعزاز الملک افکاری نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کے عوام اسلام سے محبت کرتے ہیں ۔ نوے فیصد پاکستانی ملک میں اسلامی نظام چاہتے ہیں ۔ سیکولر اور لبرل لوگ اسلام پسندوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔25 جولائی کو پاکستان کے عوام متحدہ مجلس عمل کوووٹ دے کر پاکستان کو اس کے اسلامی تشخص سے محروم کرنے کی ساری سازشوں کا قلع قمع کردیں گے ۔ متحدہ مجلس عمل ہی پاکستان کو اس کے قیام کے مقاصد سے ہمکنار کرسکتی ہے ۔ 25 جولائی کرپٹ مافیا ، لینڈ مافیا اور ڈر گ کے لیے موت کا پیغام ہے ۔ ہماری غیرت مند قوم ان لٹیروں کا بوریا بستر ہمیشہ کے لیے گول کردے گی ۔ انہوںنے کہاکہ پہلے پیپلز پارٹی ، ن لیگ ، ق لیگ میں رہنے والے اب تحریک انصاف میں ہیں ۔ یہ احتساب سے بچنے کے لیے پارٹیاں اور جھنڈے بد ل رہے ہیں مگر عوام انہیں اچھی طرح جانتے اور پہنچاتے ہیں ، انہیں بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا ۔ ہم ایک ایک کو پکڑ کر اس سے لوٹی گئی قومی دولت وصول کریں گے اور یہ لٹیرے اگر غلاف کعبہ میں بھی جا چھپیں ، انہیں ڈھونڈ نکالیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم اقتدار میں رہنے والے ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ داروں سے قوم کی محرومیوں کا حساب لیں گے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں مگر انہیں یا د رہنا چاہیے کہ جب عوامی طوفان اٹھتے ہیں تو پھر کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکتی ۔ انہوںنے کہاکہ جب تک ان لوگوں سے لوٹی دولت واپس نہ نکلوا لیں ، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر ملک میں آج دو کروڑ سے زیادہ بچے تعلیم سے محروم ہیں ، لوگوں کو علاج کی سہولت نہیں ملتی ، پڑھے لکھے نوجوان روزگار کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں تو اس کے مجرم یہی لوگ ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں اور عوام کی خوشیوں کے قاتل بن جاتے ہیں ۔