مرکزی جمعیت اہلحدیث عالمی کے رہنماﺅں کی این اے 130 میں لیاقت بلوچ کی حمایت کا اعلان

لاہور 19جولائی 2018ئ
مرکزی جمعیت اہلحدیث عالمی کے رہنماﺅں مولانا محمد مشتاق چیمہ ، آرگنائزر مرکزی جمعیت اہلحدیث عالمی حافظ ذاکر الرحمن صدیقی ، صدر اہلحدیث یوتھ فورس پاکستان ، نعمت اللہ ظفر سیکرٹری جنرل اہلحدیث یوتھ فورس پاکستان ، حافظ نعیم الرحمن ناظم تبلیغ اہلحدیث یوتھ فورس پاکستان ، حکیم محمد افضل جمال آرگنائزر مرکزی جمعیت اہلحدیث گوجرانوالہ نے متحدہ مجلس عمل ، بالخصوص حلقہ این اے 130 سے لیاقت بلوچ کی حمایت کا اعلان لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ پریس کانفرنس میں متحدہ مجلس عمل و جماعت اسلامی پاکستان اور حلقہ این اے 130 سے امیدوار لیاقت بلوچ ، امیر جماعت اسلامی سٹی گوجرانوالہ مظہر اقبال رندھاوا ، بابر رضوان باجوہ ، احمد سلمان بلوچ ، خالد عثمان ، قاضی عبدالودود و دیگر بھی اس موقع پر موجودتھے ۔لیاقت بلوچ نے پریس کانفرنس میں حلقہ این اے 130 میں متحدہ مجلس عمل کے امیدواران کی حمایت کرنے پر مرکزی جمعیت اہلحدیث عالمی کے قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ دینی قوتیں پاکستان کے عوام کو کبھی مایوس نہیں کریں گی ۔ انہوںنے کہاکہ آج آئین و ملکی قوانین سے اسلامی شقیں ، عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت قوانین کو غیر موثر کرنے کی سازش اور حربے استعمال کیے جارہے ہیں ۔ ان شاءاللہ متحدہ مجلس عمل ان حربوں کو ناکام بنائے گی اور پاکستان کا مستقبل روشن بنائے گی۔
دریں اثنا لیاقت بلوچ نے جامعہ اشرفیہ کے مہتمم اور سینئر رہنما مولانا فضل الرحیم اشرفی ، اسعد عبید ، مجیب الرحمن اشرفی اور دیگر رہنماﺅں سے ملاقات کی ۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لیاقت بلوچ کی حلقہ این اے 130 سے جیت جامع اشرفیہ کی جیت ہے ۔ لیاقت بلوچ جیسے رہنما کو ہر صورت کامیاب کرا کے پارلیمنٹ بھیجا جائے ۔ تمام دینی حلقوں کو ان کی کارکردگی پر فخر ہے ۔ انہوں نے اساتذہ ، طلبہ اور محبان دین سے اپیل کی کہ انتخابی نشان کتاب کو کامیاب کرایا جائے ۔
علاوہ ازیں لیاقت بلوچ نے کیو بلاک میں خواتین کنونشن ، شاہ جمال ، شادمان مارکیٹ ، اچھرہ و دیگر مقامات پر کارنر میٹنگز اور ڈور ٹوڈور ملاقاتوں میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایم ایم اے سیکولر و لبرل قوتوں کےخلاف واحد طاقتور پلیٹ فارم ہے ۔ نام نہاد روشن خیال اپنی نااہلی اور کرپٹ عمل کی وجہ سے پاکستان کو اسلامی نظریاتی منزل سے ہٹا کر مغرب کی تابعداری پر مامور کر دینا چاہتے ہیں ۔ پارٹیوں کی ٹکٹوں پر عہدے کا لالچ اور ہوس رکھنے والے بے خبرہیں کہ ان کی جماعتوں کو کس ایجنڈے اور کہاں سے کنٹرول کیا جارہاہے ۔ آئین کی بالادستی اور اسلامی نظام ہی ملک و ملت کے وقار ، آزادی اور خود مختاری کا ضامن ہے ۔انہوںنے کہاکہ مشرف نے 32 سو ارب روپے ، زرداری نے 82 سو ارب روپے اور نوازشریف دور میں 15 ہزار ارب روپے قرضے لیے گئے ۔ دیانتدار اہل قیادت ہی معاشی بحران کا خاتمہ کرے گی ۔