لوئر دیر اور مہمند ایجنسی میں انتخابی جلسوں سے خطاب : سینیٹر سراج الحق

لاہور18 جولائی2018
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کا تاثر ہے کہ حکومت ایک پارٹی کی سرپرستی کر رہی ہے جس سے انتخابات کو متنازعہ بنایا جارہا ہے ۔نگران حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو غیر جانبدار اور شفاف بنائے ،اگرعوام کا الیکشن پر اعتماد نہ رہا تو ملک میں انتشار اور انارکی کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ 2018کا الیکشن فیصلہ کرے گا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک رہے گا یا لبرل اور سیکولر پاکستان بنے گا۔یہ الیکشن نظریا ت ، تہذیب اور کلچر کا مقابلہ ہے ۔یہ غیر ت اور بے غیرتی اور حیااور بے حیائی کے درمیان مقابلہ ہے ۔ سیکولر ازم کے حامی چاہتے ہیں کہ اسلام کو مسجد تک محدود کردیا جائے اوراس سے پارلیمنٹ میں قانون سازی اور اقتدار کا حق چھین لیا جائے،یہ ٹولہ ہمارے نوجوانوں کو اسلام سے بغاوت پر اکسا رہا ہے ۔ پاکستان سے لوٹی گئی پانچ سو ارب ڈالر کی بیرون ملک پڑی دولت کو واپس لا کر ملک و قوم پر خرچ کریں گے ۔ملک کے تما م مسائل کا حل اسلامی انقلاب میں ہے ۔ مالا کنڈ کے عوام کو اپنے اسلامی کلچر پر فخر ہے ،پختون قوم اپنے کلچر اور تہذیب کی حفاظت کرنا جانتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لوئر دیر میں یوتھ کنونشن اور مہمند ایجنسی میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔یوتھ کنونشن سے مولانا اسد اللہ اور اعزاز الملک افکاری نے بھی خطاب کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہوگا۔عوام نے طے کرنا ہے کہ انہوں نے جاگیرداروں وڈیروں اور سرمایہ داروں کی غلامی کرنی ہے یا کرپٹ ٹولے سے آزادی حاصل کرکے پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آنے والا کل پاکستان میں اسلامی نظام اور غریب عوام کا ہے ۔پاکستان کو ایک اسلامی و خوشحال پاکستان بنانے کیلئے عوام متحدہ مجلس عمل کے دست و بازو اور ووٹر اور سپورٹر بنیں ۔ متحدہ مجلس عمل عام آدمی کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہے اس لئے ظلم کرپشن اور غربت کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل نے پاک دامن لوگوں کو اکٹھا کرکے عوام کے سامنے پیش کیا ہے تاکہ عوام اپنی حقیقی قیادت کو پہچان سکیں ۔ایم ایم اے میں پانامہ زدہ اور کرپٹ لوگ نہیں، قرضے لیکر ہڑپ کرنے والے ہیں نہ دبئی اور لندن میں ان کی جائیدادیں ہیں ۔یہ سب آپ کے درمیان رہنے والے لوگ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ اسمبلیوں میں پہنچیں گے تو اللہ تعالیٰ برکت اور رحمت کے دروازے کھول دے گا ۔کچھ لوگ ملک سے حیا کا جنازہ نکالنا چاہتے ہیں ۔ قوم یہ نہیں ہونے دے گی کہ یہاں شراب خانے آباد اور مسجدیں اور مدارس ویران ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں میں پہچانا چاہتے ہیں کیونکہ عوام کے مسائل کا ادراک وہی رکھتا ہے جو عوام میں سے ہو۔جو لوگ غریبوں کے ہمدرد اور خیر خواہ بن کر آتے ہیں انہیں عوام کے مسائل سے نہیں اپنے اقتدار سے مطلب ہوتا ہے اسی لئے وہ دوبارہ پانچ سال تک نظر نہیں آتے ۔انہوں نے کہا کہ آج تک ملک کے اقتدار پر قابض وڈیروں نے عوام کا استحصال کیا ہے اور عام آدمی کو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا ہے ۔جن لوگوں نے روٹی کپڑے اور مکان کے نعرے پر چالیس سال حکومت کی وہ آج ایک بار پھر عوام کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام اب باشعور ہوچکے ہیں وہ نئے لیبل والی پرانی شراب کے دھوکے میں نہیں آئیں گے اور 25جولائی کو متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو ووٹ دیکر ایک اسلامی و خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں تعلیمی اداروں کا جال بچھانے کا اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے ،آج تیمر گرہ میں بچوں اور بچیوں کے اعلیٰ اور معیاری ادارے ہیں اور ہمارا عزم ہے کہ مالا کنڈ میں میڈیکل کالج ،زرعی یونیورسٹی ،انجینئر نگ اور ٹیکنیکل یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی۔جس طرح غرناطہ ،ثمر قند وبخارا اور قرطبہ علم کے مرکز تھے اسی طرح مالا کنڈ کو جدید علوم کا مرکز بنایا جائے گا جس میں بیرون ملک سے طالب علم آکر پڑھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم کو بالکل مفت کردیں گے اور پانچ بڑی بیماریوں کا علاج مفت کردیں گے ۔جب تک نوجوانوں کو روز گار نہیں ملے گا انہیں حکومت کی طرف سے بے روز گاری الاﺅنس دیا جائے گا،غریب بچیوں کی شادیوں کا انتظام حکومت کرے گی۔