متحدہ مجلس عمل چاہتی ہے کہ عام آدمی ایوانوں میں پہنچے تاکہ عوام کے مسائل حل ہوسکیں ۔سینیٹر سراج الحق

لاہور4جولائی2018ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ متحدہ مجلس عمل چاہتی ہے کہ عام آدمی ایوانوں میں پہنچے تاکہ عوام کے مسائل حل ہوسکیں ۔ جو لوگ عام آدمی کے مسائل سے واقف نہیں، وہ اسمبلیوں میں پہنچ کر ان کی نمائندگی کے بجائے اشرافیہ کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ مزدور کے مسائل کارخانہ دار اور سرمایہ دار اور کسانوں کے مسائل جاگیردار اور وڈیرہ نہیں سمجھ سکتا۔ ایم ایم اے نئے شہر آباد کرے گی تاکہ بڑے اور قدیم شہروں پر آبادی کا بوجھ کم ہوسکے ۔ یہ شہر سی پیک کے اکنامک زون میں بسائے جائیں گے جہاں بجلی ، پانی ، گیس سمیت تمام سہولتیں آسانی سے دستیاب ہوں گی ۔ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور چھوٹی صنعتوں اور دستکاریوں کو فروغ حاصل ہوگا ۔ ایم ایم اے اندرونی و بیرونی قرضوں کے حجم کو ستر فیصدسے کم کر کے تین سالوں میں پاکستان کو قرض فری ملک بنادے گی ۔ ایم ایم اے ہی ملک سے کرپشن ختم کر سکتی ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ایک صحت مند اور خوشحال پاکستان کے لیے تعلیم اور صحت پر کل بجٹ کا کم از کم دس فیصد خرچ کیا جائے اور سودی قرضوں کی معیشت سے تائب ہو کر زکوة اور عشر کے نظام کو اختیار کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا اور ٹیکس کے انڈیکیٹرکو مکمل ری سٹریکچر کرنا چاہتی ہے تاکہ عوام پر سے براہ راست ٹیکسوں کے بوجھ کو کم کیا جاسکے ۔انہوںنے کہاکہ ایم ایم اے نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلامی بنکاری کی شرح کو تین سالوں کے اندر اندر سولہ فیصد سے بڑھا کر ساٹھ فیصد تک لے جائیں گے اور کوئی نیا سودی قرضہ نہیں لیا جائے گا ۔ انہوںنے کہاکہ ہم ملک میں اسلامی سکوک کا استعمال کرکے ناصرف ترقیاتی اخراجات کو کم کریں گے بلکہ سی پیک کو بھی سکوک کے اجراءسے مکمل کریں گے ۔ ہم سی پیک کے ساتھ اکنامک زونز قائم کریں گے جہاں جدید شہر بسائے جائیں گے اور ان شہروں میں جدید طرز کی سہولیات تعلیم ، صحت اور روزگار سر فہرست ہوں گی ۔ ہم نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دیں گے جو گزشتہ ساٹھ سالوں کی نسبت زیادہ ہوں گے اور بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ سی پیک سے منسلک ٹیکنیکل ٹریننگ کی فراہمی کے لیے انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کے شعبہ جات کو ترقی دیں گے ۔ ایم ایم اے چاہتی ہے کہ گھریلو صنعتوں اور کاٹیج انڈسٹری کو ترقی ملے تاکہ زراعت کا شعبہ ترقی کر سکے اور کسان خوشحال ہو ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نوجوانوں کو یونین کونسل اور محلہ کی سطح پر منظم کریں گے اور اس کے لیے ایک نئی منسٹری قائم کی جائے گی ۔ ایک ویلفیئر سٹیٹ کے لیے عدالتوں ، پولیس سسٹم اور ریونیو کے نظام کو از سر نو تشکیل دیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ آبادی کے لیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور گندے پانی کے نکاس کا موجودہ نظام بری طرح فیل ہوچکاہے ۔ ہم شہروں اور دیہاتوں میں از سر نو نظام قائم کریں گے ، صحت مند معاشرے کے لیے کھیلوں کو فروغ دیں گے اور بجٹ کا تین فیصد کھیلوں کے لیے مختص کیا جائے گا ۔