رونے دھونے اور سینہ کوبی سے قومیں ترقی حاصل نہیں کر تیں ، باطل کےخلاف جدوجہد سے ہی عروج حاصل ہوتاہے ۔سراج الحق

لاہور3 جولائی2018 ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ رونے دھونے اور سینہ کوبی سے قومیں ترقی حاصل نہیں کر تیں ، باطل کےخلاف جدوجہد سے ہی عروج حاصل ہوتاہے ۔ قوم انتخابات کو حق و باطل کامعرکہ سمجھ کر حق کے ساتھ کھڑی ہو جائے ۔ پاکستان کے اقتدار اور اداروں پر قابض حکمرانوں نے ملک کو اس کے نظریے اور مقصد سے دور رکھا ۔ اصل دشمن آستین کے وہ سانپ ہیں جن کو 70 سال تک قوم دودھ پلاتی اور بار بار اپنی گردنوں پر سوار کرتی رہی ۔ کرپٹ اور بددیانت لیڈر شپ کی وجہ سے عوام ترقی و خوشحالی سے محروم رہے ۔ متحدہ مجلس عمل پاکستان کو اسلامی ویلفیئر ریاست بنائے گی ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ثمر باغ دیر میں معززین علاقہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سابق ایم پی اے اعزاز الملک افکاری بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 25 جولائی کا الیکشن غلامان مصطفی اور غلامان امریکہ کے درمیان حق و باطل کا معرکہ ہے ۔ ہر وہ پارٹی جو ملک کو سیکولر اور لبرل ازم کی گود میں دینا چاہتی ہے اور اسلامی نظام کی مخالفت کرتی ہے ، وہ امریکی ایجنڈے پر کاربند ہے ۔ ان لوگو ں کا کوئی وژن ہے نہ ان کے پاس قومی ترقی کا کوئی ایجنڈا ہے ۔ پارٹیاں اورجھنڈے بد ل کر الیکشن لڑنے والے کرپٹ لوگ کس طرح پاکستان کو موجودہ مسائل سے نجات دلاسکتے ہیں جبکہ یہ تمام مسائل خود ان کے پیدا کردہ ہیں اور آج اگر قوم جہالت ، غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے تو اس کے اصل مجرم یہی حکمران ہیں جو خود کو سیاست اور حکومت کا مالک سمجھتے ہیں اور عام آدمی کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ان لوگو ں کی اصل جگہ اقتدار کے ایوان نہیں جیلیں ہیں اور ان شاءاللہ متحدہ مجلس عمل اقتدار میں آکر تمام لٹیروں کا محاسبہ کرے گی اور انہیں ان کے اصل مقام پر پہنچایا جائے گا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کے پاس معاشی ، سماجی اورتعلیمی ترقی کا واضح روڈ میپ ہے ہم علاج ، تعلیم اور روزگار کی فراہمی کا ایک مکمل پروگرام رکھتے ہیں اور پاکستان کو قائداعظم کے وژن کے مطابق ایک اسلامی پاکستان بنانا چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اگر قوم حقیقی تبدیلی چاہتی ہے تو پھر آئندہ انتخابات کو الیکشن برائے الیکشن سمجھنے کی بجائے تبدیلی کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی حالت سنوارنے کا ایک موقع سمجھتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دے ۔ انہو ں نے کہاکہ اگر ستر سال بعد بھی پاکستان کی سیاست ، تعلیم اور معیشت میں کہیں اسلام نظر نہیں آتا اور غریبوں کا استحصال ہورہاہے تو اس کے ذمہ دار وں کو پہچاننا اور آئندہ الیکشن میں ان کا راستہ روکنا ہماری قومی ذمہ دار ی ہے ۔