متحدہ مجلس عمل اللہ کے دین کو اقتدار کے ایوانوں ، عدل و انصاف کے اداروں اور زندگی کے ہر شعبے میں عملاً نافذ کرنا چاہتی ہے ۔سینیٹر سراج الحق

لاہور2جولائی2018ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پوری دنیا کی نظریں 25 جولائی کے الیکشن پر لگی ہوئی ہیں ۔ سی این این اور بی بی سی سمیت عالمی نشریاتی ادارے انتخابی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی سامراج کے آلہ کار سیکولر اور لبرل لوگ کامیاب ہوں اور دینی و نظریاتی قوتیں ناکام ہوں ۔ متحدہ مجلس عمل پاکستان کے اسلامی و نظریاتی تشخص کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ قومیں اپنے نظریات کی بنیاد پر زندہ رہتی ہیں ۔نظریے کے بغیر کوئی قوم اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتی ۔ قوم 25 جولائی کو ایم ایم اے کا ساتھ دے کر ملک کی نظریاتی اور دفاعی سرحدوں کی حفاظت کا فرض پورا کرے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے تالاش دیر میں انتخابی جلسہ اور این اے 6سے ایم ایم اے کے امیدوار مولانا اسداللہ کے انتخابی دفتر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ انتخابی میدان میں موجو د پارٹیوں ، نئے چہروں اور پرچموں کے ساتھ آنے والے امیدواروں نے عوام کو ایک بار نہیں ، بار بار دھوکہ اور فریب دیاہے اب عوام مزید ان کی باتوں میں آنے والے نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جن لوگوں کا احتساب ہوناچاہیے تھا ، ان کو انتخابی میدان میں اترنے کی اجازت دینا ہمارے انتخابی اور احتسابی نظام کی کمزور ی ہے ۔ ایک طرف ملک و قوم کے اربوں کھربوں کھانے والے کرپٹ اور بددیانت لوگ ہیں اور دوسری طرح ایم ایم اے کی صاف ستھری قیادت ہے جن کے دامن پر کرپشن کا کوئی دھبہ ہے نہ انہوںنے قرضے معاف کروائے ہیں ۔ جو لوگ تین نسلوں سے اقتدار میں ہیں اور عوام کو پینے کا صاف پانی تک مہیا نہیں کر سکے ، وہ عوام کی تقدیر بدلنے کے دعوے کر کے شرمندہ نہیں ہوتے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل اللہ کے دین کو اقتدار کے ایوانوں ، عدل و انصاف کے اداروں اور زندگی کے ہر شعبے میںعملاً نافذ کرنا چاہتی ہے ۔ کچھ لوگ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے پر دینی قوتوں کا راستہ روکنا جبکہ عوام ملک میں نظام مصطفےٰ کا نفاذ چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل نے قوم سے وعدہ کیا ہے کہ اگر ہمیں ایک دن کے لیے بھی اقتدار کا موقع ملا تو ہمارا پہلا کام ملک میں شریعت اور خلافت کے نظام کا نفاذ ہوگا ۔ ایم ایم اے نے عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ دیاہے ۔ ملک کے اڑھائی کروڑ بچے جو سابقہ حکمرانوں کی تعلیم دشمن پالیسیوں کی وجہ سے سکولوں سے باہر ہیں ، انہیں تعلیمی اداروں میں لانا ، بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور جب تک انہیں ملازمتیں نہ ملیں ، انہیں بے روزگاری الاﺅنس دینا ، ستر سا ل سے زائد عمر کے بزرگوں کو بڑھاپا الاﺅنس اورگھریلو دستکاریوں اور چھوٹی صنعتوں کے لیے غیر سودی قرضے دیے جائیں گے تاکہ بے روزگاری کے مسئلے کو حل کیا جاسکے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم قرضوں کی بیساکھیوں پر کھڑی سودی معیشت کو ختم کر کے زکوة کا نظام لائیں گے جس سے پہلے دن ہی زکوة دینے والے کروڑوں لوگ قومی خزانے کو بھر دیں گے ۔ اس وقت ملک میں آٹھ لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں جبکہ عشر و زکوة کے نظام میں 9 کروڑ لوگ زکوة دیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ بیرون ملک پڑی قومی دولت کی واپسی ایم ایم اے کے منشور کا اہم نقطہ ہے ۔اس وقت پاکستان پر 83 ارب ڈالر بیرونی قرضے ہیں جبکہ پانچ سو ارب ڈالر سے زیادہ قومی دولت بیرونی بنکوں میں پڑی ہے اگر یہ دولت ملک میں واپس آ جائے تو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے بعد ہم ملک میں تعلیم اور صحت کی مفت سہولتیں دے سکتے ہیں اور عوام کو بجلی ، گیس اور دیگر بنیادی سہولتیں انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہوسکتی ہیں ۔