متحدہ مجلس عمل نے ایسے کسی ایک فرد کو بھی اپنا امیدوارنامزد نہیں کیا جس کے کردار پر کوئی انگلی اٹھاسکے ۔ سینیٹر سراج الحق

لاہور 26جون 2018ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے لیے نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کو پوری دیانتداری اور اخلاص سے فیصلے کرنا ہوں گے ۔ الیکشن کمیشن اپنے ضابطہ اخلاق کی پابندی کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہ کرے ۔ لیٹروں ، روایتی سیاستدانوں ، ظالم جاگیرداروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کا راستہ روکنے کے لیے انتخابی قوانین کو حرکت میں آناچاہیے ۔ جن لوگو ںنے ملک و قوم کو نقصان پہنچایا ، وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان خیالات کا ا ظہار انہوںنے اپنے حلقہ انتخاب دیر لوئر میں مختلف ملاقاتوں کے موقع پرگفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان اس وقت کسی نئے تجربے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے کرپٹ لوگوں کا راستہ روکنا بہت ضروری ہے ۔ جن لوگوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر جیلوں میں پھینکنا چاہیے ، ان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینا ملک و قوم کے ساتھ ظلم ہے ۔ الیکشن کمیشن کو جرائم پیشہ لوگوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہونی چاہیے ۔انہوںنے عوام سے اپیل کی کہ بار بار آزمائے ہوئے لوگوں کے فریب میں نہ آئیںاور متحدہ مجلس عمل کے دیانتدار اور باکردار امیدواروں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں تاکہ کرپٹ لوگوں کو عوام کی قسمت سے کھیلنے کا مزید موقع نہ مل سکے
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اگر سپریم کورٹ پانامہ لیکس کے دیگر 436 لوگوں کو بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرتی تو آج بہت سے چہرے انتخابی میدان میں نظر نہ آتے ۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل نے ایسے کسی ایک فرد کو بھی اپنا امیدوارنامزد نہیں کیا جس کے کردار پر کوئی انگلی اٹھاسکے ۔ انہوںنے امید ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے اور نہ صرف خیبر پی کے میں متحدہ مجلس عمل حکومت بنائے گی ، بلکہ مرکزی حکومت میں بھی ایم ایم اے اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ 25 جولائی ملک میں اسلامی قوتوں کی شاندار کامیابی کا دن ہوگا ۔