کسی بھی اسلامی ملک کو کوئی پریشانی ہوتو وہ پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن

متحدہ مجلس عمل پاکستان کے صدر مولانا فضل الرحمن نے رنگ روڈ گراؤنڈ پشاور میں متحدہ مجلس عمل کے زیراہتمام بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ عالم اسلام میں بیداری کی لہر ہے ۔ کسی بھی اسلامی ملک کو کوئی پریشانی ہوتو وہ پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں ۔ پاکستان میں حقیقی تبدیلی یہ ہوگی کہ یہاں اسلام کا پرچم لہرائے ۔ پشتون قوم اپنے آباؤ اجداد کی روایات کو مٹنے نہیں دے گی ۔ ہم اسلام کے لیے زندہ رہنا اور اسلام کے لیے مرنا جانتے ہیں ۔ خیبر پختونخوا کے اسلام پسند عوام نے سیکولر ایجنڈے اورمغرب کی سازشوں کو ناکام بنادیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج تہذیبوں کی جنگ ہے ہمارے مقابلے میں جو لوگ ہیں وہ کہتے ہیں کہ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اور ہم مسلمان ہیں بس اتنا کافی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ شراب پر پابندی ، سود پر پاپندی اور دختران ملت کو نچانے پر پابندی نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ ہمارے مقابلے پر ہیں ان کاایجنڈا اورنظریہ مغربی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر عالمی قوتیں ہمیں اندھیرے میں دھکیلنا چاہتی ہیں تو ہمیں ان کا چیلنج قبول ہے ، ہم اپنی شناخت قائم رکھیں گے ،پاکستان کے عوام کے دلوں میں مغربی کلچر کی کوئی اہمیت نہیں ۔ ہم اقتدار تک پہنچنے کے لیے تلوار اور تیر کا نہیں ،ووٹ کا سہارا لے رہے ہیں ۔ ووٹ کی پرچی عوام کا ہتھیار ہے۔ہم اسلامی قانون کے نفاذ او ر آئین سازی کے لیے اسلام آباد بھی پہنچیں گے اور کراچی اور پشاور میں بھی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم جو عوام کے اندر کہتے ہیں وہی پارلیمنٹ اور بند کمروں کے اجلاسوں میں کہتے ہیں، ہمارا موقف ہر جگہ یکساں ہوتاہے ۔ ہم اسلام آباد کے ایوانوں میں پہنچ کر کلمے کے نظام کو نافذ کریں گے اور ملک کے اسلامی تشخص کو بحال کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ایک بار پھر عوام کی امیدوں کا مرکز بن چکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج خیبر پختونخوا پر تین سو ارب کا قرضہ ہے جو گزشتہ حکومت چھوڑ گئی ہے