میری لڑائی، بھوک، دہشت گردی، بیماری اور ہر ظلم کے خلاف ہے۔سینیٹر سراج الحق

میری لڑائی، بھوک، دہشت گردی، بیماری اور ہر ظلم کے خلاف ہے۔ ظلم ظلم ہے چاہے کوئی جاگیردار، سیاستدان یا جرنیل کرے-
میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے سوال کرتا ہوں کہ امریکی جہاز اگر کرنل جوزف کو لینے پاکستان کی سرزمین پر آسکتا ہے تو پاکستان کا جہاز کیوں نہیں ڈاکٹر عافیہ کو لینے امریکی سرزمین پر جاسکتا ؟
ہم نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدان آباد کریں گے، انھیں فنی تعلیم اور کاروبار کے لیے بلاسود قرض دیں گے
ہم بےروزگاری ختم کریں گے ورنہ بے روزگاری الاؤنس دیں گے، یکساں نظام تعلیم، خواتین کو حقوق دیں گے، الیکشن کمیشن کو امیدواران سے خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے کا سرٹیفکیٹ مانگنا چاہیے
میں معاشیات کا طالب علم ہوں اور وزیر خزانہ رہ چکا ہوں۔ ہم تمام ان ڈائریکٹ ٹیکسز ختم کریں گے، صرف ڈائریکٹ ٹیکسز کا نظام دیں گے، غریب اور سرمایہ دار لوگوں پر ایک جیسا ٹیکس ظلم ہے
ہم بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کے قیام کے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہیں اگر پاکستان میں اسلامی حکومت ہوتی تو گیدڑوں کی طرح ڈر کر خاموش نہ رہتی۔ انھوں نے کشمیری بچی آصفہ بی بی کی عصمت دری اور قتل پر بھی آواز نہ اٹھائی
مجلس عمل کے قافلے میں کوئی پانامہ زدہ، قرض مافیا ، لینڈ مافیا اور شوگر کا نمائندہ نہیں ہے جو اس قافلے سے ٹکرائے گا اس کی سیاست پاش پاش ہوجائے گی
مخالفین ہمیں ایک ہونے کا طعنے دیتے ہیں، اگر 1971 میں متحدہ مجلس عمل جیسا اتحاد ہوتا تو مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا اور نہ بانوے ہزار فوج قید ہوتی
میرا منشور صرف دو نکاتی ہے
ایک لا الہ الا اللہ اور دوسرا محمد الرسول اللہ
یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کا نفاذ،
کیونکہ اللہ کی طرح اللہ کا نظام بھی لاشریک ہے
دینی جماعتوں کے اکٹھا ہونے سے امریکہ کے ایجنٹ اور ان کے یار پریشان ہیں جبکہ عام عوام خوش ہیں
جب تک زندگی باقی ہے، خون کے آخری قطرے تک پاکستان میں اسلامی نظام کے
نفاذ کے لیے لڑیں گے، مریں گے
بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان کے نئے پاکستان کی بجائے اسلامی پاکستان بنانے کا پیغام دے رہے ہیں ستر سال سے قوم اسلامی نظام کے نفاذ کی منتظر ہے

۔سینیٹر سراج الحق